کلامِ اکبرردیف الف

نہ حاصل ہوا صبر و آرام دل کا

۱

نہ حاصل ہوا صبر و آرام دل کانہ نکلا کبھی تم سے کچھ کام دل کا

۲

محبت کا نشہ رہے کیوں نہ ہر دمبھرا ہے مئے عشق سے جام دل کا

۳

پھنسایا تو آنکھوں نے دام بلا میںمگر عشق میں ہو گیا نام دل کا

۴

ہوا خواب رسوا یہ عشق بتاں میںخدا ہی ہے اب میرے بدنام دل کا

۵

یہ بانکی ادائیں یہ ترچھی نگاہیںیہی لے گئیں صبر و آرام دل کا

۶

دھواں پہلے اٹھتا تھا آغاز تھا وہہوا خاک اب یہ ہے انجام دل کا

۷

جب آغاز الفت ہی میں جل رہا ہےتو کیا خاک بتلاؤں انجام دل کا

۸

خدا کے لئے پھیر دو مجھ کو صاحبجو سرکار میں کچھ نہ ہو کام دل کا

۹

پس مرگ ان پر کھلا حال الفتگئی لے کے روح اپنی پیغام دل کا

۱۰

تڑپتا ہوا یوں نہ پایا ہمیشہکہوں کیا میں آغاز و انجام دل کا

۱۱

دل اس بے وفا کو جو دیتے ہو اکبرؔتو کچھ سوچ لو پہلے انجام دل کا

۱۷ / ۱۴۶