کلامِ اکبرردیف ف

انہیں نگاہ ہے اپنے جمال ہی کی طرف

۱

انہیں نگاہ ہے اپنے جمال ہی کی طرفنظر اٹھا کے نہیں دیکھتے کسی کی طرف

۲

توجہ اپنی ہو کیا فن شاعری کی طرفنظر ہر ایک کی جاتی ہے عیب ہی کی طرف

۳

لکھا ہوا ہے جو رونا مرے مقدر میںخیال تک نہیں جاتا کبھی ہنسی کی طرف

۴

تمہارا سایہ بھی جو لوگ دیکھ لیتے ہیںوہ آنکھ اٹھا کے نہیں دیکھتے پری کی طرف

۵

بلا میں پھنستا ہے دل مفت جان جاتی ہےخدا کسی کو نہ لے جائے اس گلی کی طرف

۶

کبھی جو ہوتی ہے تکرار غیر سے ہم سےتو دل سے ہوتے ہو در پردہ تم اسی کی طرف

۷

نگاہ پڑتی ہے ان پر تمام محفل کیوہ آنکھ اٹھا کے نہیں دیکھتے کسی کی طرف

۸

نگاہ اس بت خود بیں کی ہے مرے دل پرنہ آئنہ کی طرف ہے نہ آرسی کی طرف

۹

قبول کیجیئے للہ تحفۂ دل کونظر نہ کیجیئے اس کی شکستگی کی طرف

۱۰

یہی نظر ہے جو اب قاتل زمانہ ہوئییہی نظر ہے کہ اٹھتی نہ تھی کسی کی طرف

۱۱

غریب خانہ میں للٰلہ دو گھڑی بیٹھوبہت دنوں میں تم آئے ہو اس گلی کی طرف

۱۲

ذرا سی دیر ہی ہو جائے گی تو کیا ہوگاگھڑی گھڑی نہ اٹھاؤ نظر گھڑی کی طرف

۱۳

جو گھر میں پوچھے کوئی خوف کیا ہے کہہ دیناچلے گئے تھے ٹہلتے ہوئے کسی کی طرف

۱۴

ہزار جلوۂ حسن بتاں ہو اے اکبرؔتم اپنا دھیان لگائے رہو اسی کی طرف

۱۸ / ۱۴۶