کلامِ اکبرردیف ے

جذبۂ دل نے مرے تاثیر دکھلائی تو ہے

۱

جذبۂ دل نے مرے تاثیر دکھلائی تو ہےگھنگھروؤں کی جانب در کچھ صدا آئی تو ہے

۲

عشق کے اظہار میں ہر چند رسوائی تو ہےپر کروں کیا اب طبیعت آپ پر آئی تو ہے

۳

آپ کے سر کی قسم میرے سوا کوئی نہیںبے تکلف آئیے کمرے میں تنہائی تو ہے

۴

جب کہا میں نے تڑپتا ہے بہت اب دل مراہنس کے فرمایا تڑپتا ہوگا سودائی تو ہے

۵

دیکھیے ہوتی ہے کب راہی سوئے ملک عدمخانۂ تن سے ہماری روح گھبرائی تو ہے

۶

دل دھڑکتا ہے مرا لوں بوسۂ رخ یا نہ لوںنیند میں اس نے دلائی منہ سے سرکائی تو ہے

۷

دیکھیے لب تک نہیں آتی گل عارض کی یادسیر گلشن سے طبیعت ہم نے بہلائی تو ہے

۸

میں بلا میں کیوں پھنسوں دیوانہ بن کر اس کے ساتھدل کو وحشت ہو تو ہو کمبخت سودائی تو ہے

۹

خاک میں دل کو ملایا جلوۂ رفتار سےکیوں نہ ہو اے نوجواں اک شان رعنائی تو ہے

۱۰

یوں مروت سے تمہارے سامنے چپ ہو رہیںکل کے جلسوں کی مگر ہم نے خبر پائی تو ہے

۱۱

بادۂ گل رنگ کا ساغر عنایت کر مجھےساقیا تاخیر کیا ہے اب گھٹا چھائی تو ہے

۱۲

جس کی الفت پر بڑا دعویٰ تھا کل اکبرؔ تمہیںآج ہم جا کر اسے دیکھ آئے ہرجائی تو ہے

۴۹ / ۱۴۶