کلامِ اکبرردیف ے

حلقے نہیں ہیں زلف کے حلقے ہیں جال کے

۱

حلقے نہیں ہیں زلف کے حلقے ہیں جال کےہاں اے نگاہ شوق ذرا دیکھ بھال کے

۲

پہنچے ہیں تا کمر جو ترے گیسوئے رسامعنی یہ ہیں کمر بھی برابر ہے بال کے

۳

بوس و کنار و وصل حسیناں ہے خوب شغلکمتر بزرگ ہوں گے خلاف اس خیال کے

۴

قامت سے تیرے صانع قدرت نے اے حسیںدکھلا دیا ہے حشر کو سانچے میں ڈھال کے

۵

شان دماغ عشق کے جلوے سے یہ بڑھیرکھتا ہے ہوش بھی قدم اپنے سنبھال کے

۶

زینت مقدمہ ہے مصیبت کا دہر میںسب شمع کو جلاتے ہیں سانچے میں ڈھال کے

۷

ہستی کے حق کے سامنے کیا اصل این و آںپتلے یہ سب ہیں آپ کے وہم و خیال کے

۸

تلوار لے کے اٹھتا ہے ہر طالب فروغدور فلک میں ہیں یہ اشارے ہلال کے

۹

پیچیدہ زندگی کے کرو تم مقدمےدکھلا ہی دے گی موت نتیجہ نکال کے

۵۰ / ۱۴۶