کلامِ اکبرردیف ے
بے تکلف بوسۂ زلف چلےپا لیجئے
۱
بے تکلف بوسۂ زلف چلےپا لیجئےنقد دل موجود ہے پھر کیوں نہ سودا لیجئے
۲
دل تو پہلے لے چکے اب جان کے خواہاں ہیں آپاس میں بھی مجھ کو نہیں انکار اچھا لیجئے
۳
پاؤں پکڑ کر کہتی ہے زنجیر زنداں میں رہووحشت دل کا ہے ایما راہ صحرا لیجئے
۴
غیر کو تو کر کے ضد کرتے ہیں کھانے میں شریکمجھ سے کہتے ہیں اگر کچھ بھوک ہو کھا لیجئے
۵
خوش نما چیزیں ہیں بازار جہاں میں بے شمارایک نقد دل سے یارب مول کیا کیا لیجئے
۶
کشتہ آخر آتش فرقت سے ہونا ہے مجھےاور چندے صورت سیماب تڑپا لیجئے
۷
فصل گل کے آتے ہی اکبرؔ ہوئے بے ہوش آپکھولیے آنکھوں کو صاحب جام صہبا لیجئے
۵۱ / ۱۴۶