کلامِ اکبرردیف ے

اپنی گرہ سے کچھ نہ مجھے آپ دیجئے

۱

اپنی گرہ سے کچھ نہ مجھے آپ دیجئےاخبار میں تو نام مرا چھاپ دیجئے

۲

دیکھو جسے وہ پانیر آفس میں ہے ڈٹابہر خدا مجھے بھی کہیں چھاپ دیجئے

۳

چشم جہاں سے حالت اصلی چھپی نہیںاخبار میں جو چاہئے وہ چھاپ دیجئے

۴

دعویٰ بہت بڑا ہے ریاضی میں آپ کوطول شب فراق کو تو ناپ دیجئے

۵

سنتے نہیں ہیں شیخ نئی روشنی کی باتانجن کی ان کے کان میں اب بھاپ دیجئے

۶

اس بت کے در پہ غیر سے اکبرؔ نے کہہ دیازر ہی میں دینے لایا ہوں جان آپ دیجئے

۵۲ / ۱۴۶