کلامِ اکبرردیف ے

اپنے پہلو سے وہ غیروں کو اٹھا ہی نہ سکے

۱

اپنے پہلو سے وہ غیروں کو اٹھا ہی نہ سکےان کو ہم قصۂ غم اپنا سنا ہی نہ سکے

۲

ذہن میرا وہ قیامت کہ دو عالم پہ محیطآپ ایسے کہ مرے ذہن میں آ ہی نہ سکے

۳

دیکھ لیتے جو انہیں تو مجھے رکھتے معذورشیخ صاحب مگر اس بزم میں جا ہی نہ سکے

۴

عقل مہنگی ہے بہت عشق خلاف تہذیبدل کو اس عہد میں ہم کام میں لا ہی نہ سکے

۵

ہم تو خود چاہتے تھے چین سے بیٹھیں کوئی دمآپ کی یاد مگر دل سے بھلا ہی نہ سکے

۶

عشق کامل ہے اسی کا کہ پتنگوں کی طرحتاب نظارۂ معشوق کی لا ہی نہ سکے

۷

دام ہستی کی بھی ترکیب عجب رکھی ہےجو پھنسے اس میں وہ پھر جان بچا ہی نہ سکے

۸

مظہر جلوۂ جاناں ہے ہر اک شے اکبرؔبے ادب آنکھ کسی سمت اٹھا ہی نہ سکے

۹

ایسی منطق سے تو دیوانگی بہتر اکبرؔکہ جو خالق کی طرف دل کو جھکا ہی نہ سکے

۵۳ / ۱۴۶