کلامِ اکبرردیف ے

آنکھیں مجھے تلووں سے وہ ملنے نہیں دیتے

۱

آنکھیں مجھے تلووں سے وہ ملنے نہیں دیتےارمان مرے دل کے نکلنے نہیں دیتے

۲

خاطر سے تری یاد کو ٹلنے نہیں دیتےسچ ہے کہ ہمیں دل کو سنبھلنے نہیں دیتے

۳

کس ناز سے کہتے ہیں وہ جھنجھلا کے شب وصلتم تو ہمیں کروٹ بھی بدلنے نہیں دیتے

۴

پروانوں نے فانوس کو دیکھا تو یہ بولےکیوں ہم کو جلاتے ہو کہ جلنے نہیں دیتے

۵

حیران ہوں کس طرح کروں عرض تمنادشمن کو تو پہلو سے وہ ٹلنے نہیں دیتے

۶

دل وہ ہے کہ فریاد سے لبریز ہے ہر وقتہم وہ ہیں کہ کچھ منہ سے نکلنے نہیں دیتے

۷

گرمئ محبت میں وہ ہیں آہ سے مانعپنکھا نفس سرد کا جھلنے نہیں دیتے

۵۴ / ۱۴۶