کلامِ اکبرردیف ے
آج آرائش گیسوئے دوتا ہوتی ہے
آج آرائش گیسوئے دوتا ہوتی ہےپھر مری جان گرفتار بلا ہوتی ہے
شوق پابوسیٔ جاناں مجھے باقی ہے ہنوزگھاس جو اگتی ہے تربت پہ حنا ہوتی ہے
پھر کسی کام کا باقی نہیں رہتا انساںسچ تو یہ ہے کہ محبت بھی بلا ہوتی ہے
جو زمیں کوچۂ قاتل میں نکلتی ہے نئیوقف وہ بہر مزار شہدا ہوتی ہے
جس نے دیکھی ہو وہ چتون کوئی اس سے پوچھےجان کیوں کر ہدف تیر قضا ہوتی ہے
نزع کا وقت برا وقت ہے خالق کی پناہہے وہ ساعت کہ قیامت سے سوا ہوتی ہے
روح تو ایک طرف ہوتی ہے رخصت تن سےآرزو ایک طرف دل سے جدا ہوتی ہے
خود سمجھتا ہوں کہ رونے سے بھلا کیا حاصلپر کروں کیا یوں ہی تسکین ذرا ہوتی ہے
روندتے پھرتے ہیں وہ مجمع اغیار کے ساتھخوب توقیر مزار شہدا ہوتی ہے
مرغ بسمل کی طرح لوٹ گیا دل میرانگہ ناز کی تاثیر بھی کیا ہوتی ہے
نالہ کر لینے دیں للّٰلہ نہ چھیڑیں احبابضبط کرتا ہوں تو تکلیف سوا ہوتی ہے
جسم تو خاک میں مل جاتے ہوئے دیکھتے ہیںروح کیا جانے کدھر جاتی ہے کیا ہوتی ہے
ہوں فریب ستم یار کا قائل اکبرؔمرتے مرتے نہ کھلا یہ کہ جفا ہوتی ہے
۵۵ / ۱۴۶