کلامِ اکبرردیف ے

ضد ہے انہیں پورا مرا ارماں نہ کریں گے

۱

ضد ہے انہیں پورا مرا ارماں نہ کریں گےمنہ سے جو نہیں نکلی ہے اب ہاں نہ کریں گے

۲

کیوں زلف کا بوسہ مجھے لینے نہیں دیتےکہتے ہیں کہ واللہ پریشاں نہ کریں گے

۳

ہے ذہن میں اک بات تمہارے متعلقخلوت میں جو پوچھو گے تو پنہاں نہ کریں گے

۴

واعظ تو بناتے ہیں مسلمان کو کافرافسوس یہ کافر کو مسلماں نہ کریں گے

۵

کیوں شکر گزاری کا مجھے شوق ہے اتناسنتا ہوں وہ مجھ پر کوئی احساں نہ کریں گے

۶

دیوانہ نہ سمجھے ہمیں وہ سمجھے شرابیاب چاک کبھی جیب و گریباں نہ کریں گے

۷

وہ جانتے ہیں غیر مرے گھر میں ہے مہماںآئیں گے تو مجھ پر کوئی احساں نہ کریں گے

۵۶ / ۱۴۶