کلامِ اکبرردیف ے
خوشی کیا ہو جو میری بات وہ بت مان جاتا ہے
۱
خوشی کیا ہو جو میری بات وہ بت مان جاتا ہےمزا تو بے حد آتا ہے مگر ایمان جاتا ہے
۲
بنوں کونسل میں اسپیکر تو رخصت قرأت مصریکروں کیا ممبری جاتی ہے یا قرآن جاتا ہے
۳
زوال جاہ و دولت میں بس اتنی بات اچھی ہےکہ دنیا میں بخوبی آدمی پہچان جاتا ہے
۴
نئی تہذیب میں دقت زیادہ تو نہیں ہوتیمذاہب رہتے ہیں قایم فقط ایمان جاتا ہے
۵
تھئیٹر رات کو اور دن کو یاروں کی یہ اسپیچیںدہائی لاٹ صاحب کی مرا ایمان جاتا ہے
۶
جہاں دل میں یہ آئی کچھ کہوں وہ چل دیا اٹھ کرغضب ہے فتنہ ہے ظالم نظر پہچان جاتا ہے
۷
چناں بروند صبر از دل کے قصے یاد آتے ہیںتڑپ جاتا ہوں یہ سن کر کہ اب ایمان جاتا ہے
۵۷ / ۱۴۶