کلامِ اکبرردیف ے

خوشی ہے سب کو کہ آپریشن میں خوب نشتر یہ چل رہا ہے

۱

خوشی ہے سب کو کہ آپریشن میں خوب نشتر یہ چل رہا ہےکسی کو اس کی خبر نہیں ہے مریض کا دم نکل رہا ہے

۲

فنا اسی رنگ پر ہے قائم فلک وہی چال چل رہا ہےشکستہ و منتشر ہے وہ کل جو آج سانچے میں ڈھل رہا ہے

۳

یہ دیکھتے ہو جو کاسۂ سر غرور غفلت سے کل تھا مملویہی بدن ناز سے پلا تھا جو آج مٹی میں گل رہا ہے

۴

سمجھ ہو جس کی بلیغ سمجھے نظر ہو جس کی وسیع دیکھےابھی یہاں خاک بھی اڑے گی جہاں یہ قلزم ابل رہا ہے

۵

کہاں کا شرقی کہاں کا غربی تمام دکھ سکھ ہے یہ مساوییہاں بھی اک بامراد خوش ہے وہاں بھی اک غم سے جل رہا ہے

۶

عروج قومی زوال قومی خدا کی قدرت کے ہیں کرشمےہمیشہ رد و بدل کے اندر یہ امر پولٹیکل رہا ہے

۷

مزہ ہے اسپیچ کا ڈنر میں خبر یہ چھپتی ہے پانیر میںفلک کی گردش کے ساتھ ہی ساتھ کام یاروں کا چل رہا ہے

۵۸ / ۱۴۶