کہاں وہ اب لطف باہمی ہے محبتوں میں بہت کمی ہے

وہی ہے فضل خدا سے اب تک ترقی کار حسن و الفتنہ وہ ہیں مشق ستم میں قاصر نہ خون دل کی یہاں کمی ہے

About this couplet

This is couplet 3 of 8 in “⁨کہاں وہ اب لطف باہمی ہے محبتوں میں بہت کمی ہے⁩” in the section Ghazals — Radeef Bari Ye, from Syed Akbar Hussain Akbar Allahabadi's Urdu book Kalam-e-Akbar (⁨کلامِ اکبر⁩).

Read it in the poem

۳ / ۸