کہاں وہ اب لطف باہمی ہے محبتوں میں بہت کمی ہے
عجیب جلوے ہیں ہوش دشمن کہ وہم کے بھی قدم رکے ہیںعجیب منظر ہیں حیرت افزا نظر جہاں تھی وہیں تھمی ہے
About this couplet
This is couplet 4 of 8 in “کہاں وہ اب لطف باہمی ہے محبتوں میں بہت کمی ہے” in the section Ghazals — Radeef Bari Ye, from Syed Akbar Hussain Akbar Allahabadi's Urdu book Kalam-e-Akbar (کلامِ اکبر).
Read it in the poem۴ / ۸