کلامِ اکبرردیف ی
بہت رہا ہے کبھی لطف یار ہم پر بھی
۱
بہت رہا ہے کبھی لطف یار ہم پر بھیگزر چکی ہے یہ فصل بہار ہم پر بھی
۲
عروس دہر کو آیا تھا پیار ہم پر بھییہ بیسوا تھی کسی شب نثار ہم پر بھی
۳
بٹھا چکا ہے زمانہ ہمیں بھی مسند پرہوا کیے ہیں جواہر نثار ہم پر بھی
۴
عدو کو بھی جو بنایا ہے تم نے محرم رازتو فخر کیا جو ہوا اعتبار ہم پر بھی
۵
خطا کسی کی ہو لیکن کھلی جو ان کی زباںتو ہو ہی جاتے ہیں دو ایک وار ہم پر بھی
۶
ہم ایسے رند مگر یہ زمانہ ہے وہ غضبکہ ڈال ہی دیا دنیا کا بار ہم پر بھی
۷
ہمیں بھی آتش الفت جلا چکی اکبرؔحرام ہو گئی دوزخ کی نار ہم پر بھی
۳۵ / ۱۴۶