کلامِ اکبرردیف ی
آہ جو دل سے نکالی جائے گی
۱
آہ جو دل سے نکالی جائے گیکیا سمجھتے ہو کہ خالی جائے گی
۲
اس نزاکت پر یہ شمشیر جفاآپ سے کیوں کر سنبھالی جائے گی
۳
کیا غم دنیا کا ڈر مجھ رند کواور اک بوتل چڑھا لی جائے گی
۴
شیخ کی دعوت میں مے کا کام کیااحتیاطاً کچھ منگا لی جائے گی
۵
یاد ابرو میں ہے اکبرؔ محو یوںکب تری یہ کج خیالی جائے گی
۳۶ / ۱۴۶