کلامِ اکبرردیف ہ

میری تقدیر موافق نہ تھی تدبیر کے ساتھ

۱

میری تقدیر موافق نہ تھی تدبیر کے ساتھکھل گئی آنکھ نگہباں کی بھی زنجیر کے ساتھ

۲

کھل گیا مصحف رخسار بتان مغربہو گئے شیخ بھی حاضر نئی تفسیر کے ساتھ

۳

ناتوانی مری دیکھی تو مصور نے کہاڈر ہے تم بھی کہیں کھنچ آؤ نہ تصویر کے ساتھ

۴

ہو گیا طائر دل صید نگاہ بے قصدسعی بازو کی یہاں شرط نہ تھی تیر کے ساتھ

۵

لحظہ لحظہ ہے ترقی پہ ترا حسن و جمالجس کو شک ہو تجھے دیکھے تری تصویر کے ساتھ

۶

بعد سید کے میں کالج کا کروں کیا درشناب محبت نہ رہی اس بت بے پیر کے ساتھ

۷

میں ہوں کیا چیز جو اس طرز پہ جاؤں اکبرؔناسخؔ و ذوقؔ بھی جب چل نہ سکے میرؔ کے ساتھ

۳۴ / ۱۴۶