کلامِ اکبرردیف ی
دشت غربت ہے علالت بھی ہے تنہائی بھی
۱
دشت غربت ہے علالت بھی ہے تنہائی بھیاور ان سب پہ فزوں بادیہ پیمائی بھی
۲
خواب راحت ہے کہاں نیند بھی آتی نہیں اببس اچٹ جانے کو آئی جو کبھی آئی بھی
۳
یاد ہے مجھ کو وہ بے فکری و آغاز شبابسخن آرائی بھی تھی انجمن آرائی بھی
۴
نگہ شوق و تمنا کی وہ دل کش تھی کمندجس سے ہو جاتے تھے رام آہوئے صحرائی بھی
۵
ہم صنم خانہ جہاں کرتے تھے اپنا قائمپھر کھڑے ہوتے تھے واں حور کے شیدائی بھی
۶
اب نہ وہ عمر نہ وہ لوگ نہ وہ لیل و نہاربجھ گئی طبع کبھی جوش پہ گر آئی بھی
۷
اب تو شبہے بھی مجھے دیو نظر آتے ہیںاس زمانہ میں پری زاد تھی رسوائی بھی
۸
کام کی بات جو کہنی ہو وہ کہہ لو اکبرؔدم میں چھن جائے گی یہ طاقت گویائی بھی
۴۲ / ۱۴۶