کلامِ اکبرردیف ی

پھر گئی آپ کی دو دن میں طبیعت کیسی

۱

پھر گئی آپ کی دو دن میں طبیعت کیسییہ وفا کیسی تھی صاحب یہ مروت کیسی

۲

دوست احباب سے ہنس بول کے کٹ جائے گی راترند آزاد ہیں ہم کو شب فرقت کیسی

۳

جس حسیں سے ہوئی الفت وہی معشوق اپناعشق کس چیز کو کہتے ہیں طبیعت کیسی

۴

ہے جو قسمت میں وہی ہوگا نہ کچھ کم نہ سواآرزو کہتے ہیں کس چیز کو حسرت کیسی

۵

حال کھلتا نہیں کچھ دل کے دھڑکنے کا مجھےآج رہ رہ کے بھر آتی ہے طبیعت کیسی

۶

کوچۂ یار میں جاتا تو نظارہ کرتاقیس آوارہ ہے جنگل میں یہ وحشت کیسی

۴۳ / ۱۴۶