کلامِ اکبرردیف ف

مذہب کا ہو کیوں کر علم و عمل دل ہی نہیں بھائی ایک طرف

۱

مذہب کا ہو کیوں کر علم و عمل دل ہی نہیں بھائی ایک طرفکرکٹ کی کھلائی ایک طرف کالج کی پڑھائی ایک طرف

۲

کیا ذوق عبادت ہو ان کو جو بس کے لبوں کے شیدا ہیںحلوائے بہشتی ایک طرف ہوٹل کی مٹھائی ایک طرف

۳

طاعون و تپ اور کھٹمل مچھر سب کچھ ہے یہ پیدا کیچڑ سےبمبے کی روانی ایک طرف اور ساری صفائی ایک طرف

۴

مذہب کا تو دم وہ بھرتے ہیں بے پردہ بتوں کو کرتے ہیںاسلام کا دعویٰ ایک طرف یہ کافر ادائی ایک طرف

۵

ہر سمت تو ہے ایک دام بلا رہ سکتے ہیں خوش کس طرح بھلااغیار کی کاوش ایک طرف آپس کی لڑائی ایک طرف

۶

کیا کام چلے کیا رنگ جمے کیا بات بنے کون اس کی سنےہے اکبرؔ بیکس ایک طرف اور ساری خدائی ایک طرف

۷

فریاد کئے جا اے اکبرؔ کچھ ہو ہی رہے گا آخر کاراللہ سے توبہ ایک طرف صاحب کی دہائی ایک طرف

۱۹ / ۱۴۶