کلامِ اکبرردیف ک

بٹھائی جائیں گی پردے میں بیبیاں کب تک

۱

بٹھائی جائیں گی پردے میں بیبیاں کب تکبنے رہو گے تم اس ملک میں میاں کب تک

۲

حرم سرا کی حفاظت کو تیغ ہی نہ رہیتو کام دیں گی یہ چلمن کی تیلیاں کب تک

۳

میاں سے بی بی ہیں پردہ ہے ان کو فرض مگرمیاں کا علم ہی اٹھا تو پھر میاں کب تک

۴

طبیعتوں کا نمو ہے ہوائے مغرب میںیہ غیرتیں یہ حرارت یہ گرمیاں کب تک

۵

عوام باندھ لیں دوہر تو تھرڈ وانٹر میںسکنڈ و فرسٹ کی ہوں بند کھڑکیاں کب تک

۶

جو منہ دکھائی کی رسموں پہ ہے مصر ابلیسچھپیں گی حضرت حوا کی بیٹیاں کب تک

۷

جناب حضرت اکبرؔ ہیں حامئ پردہمگر وہ کب تک اور ان کی رباعیاں کب تک

۲۰ / ۱۴۶