کلامِ اکبرردیف گ
مل گیا شرع سے شراب کا رنگ
۱
مل گیا شرع سے شراب کا رنگخوب بدلا غرض جناب کا رنگ
۲
چل دیئے شیخ صبح سے پہلےاڑ چلا تھا ذرا خضاب کا رنگ
۳
پائی ہے تم نے چاند سی صورتآسمانی رہے نقاب کا رنگ
۴
صبح کو آپ ہیں گلاب کا پھولدوپہر کو ہے آفتاب کا رنگ
۵
لاکھ جانیں نثار ہیں اس پردیدنی ہے ترے شباب کا رنگ
۶
ٹکٹکی بندھ گئی ہے بوڑھوں کیدیدنی ہے ترے شباب کا رنگ
۷
جوش آتا ہے ہوش جاتا ہےدیدنی ہے ترے شباب کا رنگ
۸
رند عالی مقام ہے اکبرؔبو ہے تقویٰ کی اور شراب کا رنگ
۲۲ / ۱۴۶