کلامِ اکبرردیف ن

حرم کیا دیر کیا دونوں یہ ویراں ہوتے جاتے ہیں

۱

حرم کیا دیر کیا دونوں یہ ویراں ہوتے جاتے ہیںتمہارے معتقد گبرو مسلماں ہوتے جاتے ہیں

۲

الگ سب سے نظر نیچی خرام آہستہ آہستہوہ مجھ کو دفن کر کے اب پشیماں ہوتے جاتے ہیں

۳

سوا طفلی سے بھی ہیں بھولی باتیں اب جوانی میںقیامت ہے کہ دن پر دن وہ ناداں ہوتے جاتے ہیں

۴

کہاں سے لاؤں گا خون جگر ان کے کھلانے کوہزاروں طرح کے غم دل کے مہماں ہوتے جاتے ہیں

۵

خرابی خانہ ہائے عیش کی ہے دور گردوں میںجو باقی رہ گئے ہیں وہ بھی ویراں ہوتے جاتے ہیں

۶

بیاں میں کیا کروں دل کھول کر شوق شہادت کوابھی سے آپ تو شمشیر عریاں ہوتے جاتے ہیں

۷

غضب کی یاد میں عیاریاں واللہ تم کو بھیغرض قائل تمہارے ہم تو اے جاں ہوتے جاتے ہیں

۸

ادھر ہم سے بھی باتیں آپ کرتے ہیں لگاوٹ کیادھر غیروں سے بھی کچھ عہد و پیماں ہوتے جاتے ہیں

۲۳ / ۱۴۶