کلامِ اکبرردیف ک

کیا جانیے سید تھے حق آگاہ کہاں تک

۱

کیا جانیے سید تھے حق آگاہ کہاں تکسمجھے نہ کہ سیدھی ہے مری راہ کہاں تک

۲

منطق بھی تو اک چیز ہے اے قبلہ و کعبہدے سکتی ہے کام آپ کی واللہ کہاں تک

۳

افلاک تو اس عہد میں ثابت ہوئے معدوماب کیا کہوں جاتی ہے مری آہ کہاں تک

۴

کچھ صنعت و حرفت پہ بھی لازم ہے توجہآخر یہ گورنمنٹ سے تنخواہ کہاں تک

۵

مرنا بھی ضروری ہے خدا بھی ہے کوئی چیزاے حرص کے بندو ہوس جاہ کہاں تک

۶

تحسین کے لائق ترا ہر شعر ہے اکبرؔاحباب کریں بزم میں اب واہ کہاں تک

۲۱ / ۱۴۶