کلامِ اکبرردیف و

ہوں میں پروانہ مگر شمع تو ہو رات تو ہو

۱

ہوں میں پروانہ مگر شمع تو ہو رات تو ہوجان دینے کو ہوں موجود کوئی بات تو ہو

۲

دل بھی حاضر سر تسلیم بھی خم کو موجودکوئی مرکز ہو کوئی قبلۂ حاجات تو ہو

۳

دل تو بے چین ہے اظہار ارادت کے لیےکسی جانب سے کچھ اظہار کرامات تو ہو

۴

دل کشا بادۂ صافی کا کسے ذوق نہیںباطن افروز کوئی پیر خرابات تو ہو

۵

گفتنی ہے دل پر درد کا قصہ لیکنکس سے کہیے کوئی مستفسر حالات تو ہو

۶

داستان غم دل کون کہے کون سنےبزم میں موقع اظہار خیالات تو ہو

۷

وعدے بھی یاد دلاتے ہیں گلے بھی ہیں بہتوہ دکھائی بھی تو دیں ان سے ملاقات تو ہو

۸

کوئی واعظ نہیں فطرت سے بلاغت میں سوامگر انسان میں کچھ فہم اشارات تو ہو

۳۳ / ۱۴۶