کلامِ اکبرردیف ن
گلے لگائیں کریں پیار تم کو عید کے دن
۱
گلے لگائیں کریں پیار تم کو عید کے دنادھر تو آؤ مرے گلعذار عید کے دن
۲
غضب کا حسن ہے آرائشیں قیامت کیعیاں ہے قدرت پروردگار عید کے دن
۳
سنبھل سکی نہ طبیعت کسی طرح میریرہا نہ دل پہ مجھے اختیار عید کے دن
۴
وہ سال بھر سے کدورت بھری جو تھی دل میںوہ دور ہو گئی بس ایک بار عید کے دن
۵
لگا لیا انہیں سینہ سے جوش الفت میںغرض کہ آ ہی گیا مجھ کو پیار عید کے دن
۶
کہیں ہے نغمۂ بلبل کہیں ہے خندۂ گلعیاں ہے جوش شباب بہار عید کے دن
۷
سویاں دودھ شکر میوہ سب مہیا ہےمگر یہ سب ہے مجھے ناگوار عید کے دن
۸
ملے اگر لب شیریں کا تیرے اک بوسہتو لطف ہو مجھے البتہ یار عید کے دن
۲۹ / ۱۴۶