کلامِ اکبرردیف ن

چرخ سے کچھ امید تھی ہی نہیں

۱

چرخ سے کچھ امید تھی ہی نہیںآرزو میں نے کوئی کی ہی نہیں

۲

مذہبی بحث میں نے کی ہی نہیںفالتو عقل مجھ میں تھی ہی نہیں

۳

چاہتا تھا بہت سی باتوں کومگر افسوس اب وہ جی ہی نہیں

۴

جرأت عرض حال کیا ہوتینظر لطف اس نے کی ہی نہیں

۵

اس مصیبت میں دل سے کیا کہتاکوئی ایسی مثال تھی ہی نہیں

۶

آپ کیا جانیں قدر یا اللہجب مصیبت کوئی پڑی ہی نہیں

۷

شرک چھوڑا تو سب نے چھوڑ دیامیری کوئی سوسائٹی ہی نہیں

۸

پوچھا اکبرؔ ہے آدمی کیساہنس کے بولے وہ آدمی ہی نہیں

۳۰ / ۱۴۶