کلامِ امیرردیف الف

کہا جو میں نے کہ یوسف کو یہ حجاب نہ تھا

۱

کہا جو میں نے کہ یوسف کو یہ حجاب نہ تھاتو ہنس کے بولے وہ منہ قابل نقاب نہ تھا

۲

شب وصال بھی وہ شوخ بے حجاب نہ تھانقاب الٹ کے بھی دیکھا تو بے نقاب نہ تھا

۳

لپٹ کے چوم لیا منہ مٹا دیا ان کانہیں کا ان کے سوا اس کے کچھ جواب نہ تھا

۴

مرے جنازے پہ اب آتے شرم آتی ہےحلال کرنے کو بیٹھے تھے جب حجاب نہ تھا

۵

نصیب جاگ اٹھے سو گئے جو پاؤں مرےتمہارے کوچے سے بہتر مقام خواب نہ تھا

۶

غضب کیا کہ اسے تو نے محتسب توڑاارے یہ دل تھا مرا شیشۂ شراب نہ تھا

۷

زمانہ وصل میں لیتا ہے کروٹیں کیا کیافراق یار کے دن ایک انقلاب نہ تھا

۸

تمہیں نے قتل کیا ہے مجھے جو تنتے ہواکیلے تھے ملک الموت ہم رکاب نہ تھا

۹

دعائے توبہ بھی ہم نے پڑھی تو مے پی کرمزہ ہی ہم کو کسی شے کا بے شراب نہ تھا

۱۰

میں روئے یار کا مشتاق ہو کے آیہ تھاترے جمال کا شیدا تو اے نقاب نہ تھا

۱۱

بیان کی جو شب غم کی بیکسی تو کہاجگر میں درد نہ تھا دل میں اضطراب نہ تھا

۱۲

وہ بیٹھے بیٹھے جو دے بیٹھے قتل عام کا حکمہنسی تھی ان کی کسی پر کوئی عتاب نہ تھا

۱۳

جو لاش بھیجی تھی قاصد کی بھیجتے خط بھیرسید وہ تو مرے خط کی تھی جواب نہ تھا

۱۴

سرور قتل سے تھی ہاتھ پاؤں کو جنبشوہ مجھ پہ وجد کا عالم تھا اضطراب نہ تھا

۱۵

ثبات بحر جہاں میں نہیں کسی کو امیرؔادھر نمود ہوا اور ادھر حباب نہ تھا

۱ / ۴۷