کلامِ امیرردیف الف
یارب شب وصال یہ کیسا گجر بجا
۱
یارب شب وصال یہ کیسا گجر بجااگلے پہر کے ساتھ ہی پچھلا پہر بجا
۲
آواز صور سن کے کہا دل نے قبر میںکس کی برات آئی یہ باجا کدھر بجا
۳
کہتے ہیں آسماں جو تمہارے مکاں کو ہمکہتا ہے آفتاب درست اور قمر بجا
۴
جاگو نہیں یہ خواب کا موقع مسافرونقارا تک بھی کوچ کا وقت سحر بجا
۵
تعمیر مقبرے کی ہے لازم بجائے قصرزر داروں سے کہو کہ کریں صرف زر بجا
۶
ہیں ہم تو شادماں کہ ہے خط میں پیام وصلبغلیں خوشی سے تو بھی تو اے نامہ بر بجا
۷
تجھ کو نہیں جو ان سے محبت کہاں مجھےتالی نہ ایک ہاتھ سے اے بے خبر بجا
۸
نفرت ہے یہ خوشی سے کہ اشک اپنے گر پڑےہمراہ تعزیہ کے بھی باجا اگر بجا
۹
جائے قیام منزل ہستی نہ تھی امیرؔاترے تھے ہم سرا میں کہ کوس سفر بجا
۲ / ۴۷