وصل کی شب بھی خفا وہ بت مغرور رہا
ہم بھی موجود تھے کل محفل جاناں میں امیرؔرات کو دیر تلک آپ کا مذکور رہا
About this couplet
This is couplet 11 of 11 in “وصل کی شب بھی خفا وہ بت مغرور رہا” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Amir Minai's Urdu book Kalam-e-Amir (کلامِ امیر).
Read it in the poem۱۱ / ۱۱