کلامِ امیرردیف الف

وصل کی شب بھی خفا وہ بت مغرور رہا

۱

وصل کی شب بھی خفا وہ بت مغرور رہاحوصلہ دل کا جو تھا دل میں بدستور رہا

۲

عمر رفتہ کے تلف ہونے کا آیا تو خیاللیکن اک دم کی تلافی کا نہ مقدور رہا

۳

جمع کس دن نہ ہوئے موسم گل میں میکشروز ہنگامہ تہ سایۂ انگور رہا

۴

گردش بخت کہاں سے ہمیں لائی ہے کہاںمنزلوں وادئ غربت سے وطن دور رہا

۵

راست بازی کر اگر ناموری ہے درکاردار سے خلق میں آوازۂ منصور رہا

۶

وہ تو ہے چرخ چہارم پہ یہ پچ محلے پرسچ ہے عیسیٰ سے بھی بالا ترا مزدور رہا

۷

فصل گل آئی گئی صحن چمن میں سو باراپنے سر میں تھا جو سودا وہ بدستور رہا

۸

جلوۂ برق تجلی نظر آیا نہ کبھیمدتوں جا کے وہاں میں شجر طور رہا

۹

زلف و رخ دونوں ہیں جانے سے جوانی کے خرابمشک وہ مشک نہ کافور وہ کافور رہا

۱۰

غول صحرا نے مرا ساتھ نہ چھوڑا شب بھرلے کے مشعل کبھی نزدیک کبھی دور رہا

۱۱

ہم بھی موجود تھے کل محفل جاناں میں امیرؔرات کو دیر تلک آپ کا مذکور رہا

۳ / ۴۷