وصل کی شب بھی خفا وہ بت مغرور رہا

عمر رفتہ کے تلف ہونے کا آیا تو خیاللیکن اک دم کی تلافی کا نہ مقدور رہا

About this couplet

This is couplet 2 of 11 in “⁨وصل کی شب بھی خفا وہ بت مغرور رہا⁩” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Amir Minai's Urdu book Kalam-e-Amir (⁨کلامِ امیر⁩).

Read it in the poem

۲ / ۱۱