وصل کی شب بھی خفا وہ بت مغرور رہا
گردش بخت کہاں سے ہمیں لائی ہے کہاںمنزلوں وادئ غربت سے وطن دور رہا
About this couplet
This is couplet 4 of 11 in “وصل کی شب بھی خفا وہ بت مغرور رہا” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Amir Minai's Urdu book Kalam-e-Amir (کلامِ امیر).
Read it in the poem۴ / ۱۱