پوچھا نہ جائے گا جو وطن سے نکل گیا

مد نظر رہی ہمیں ایسی رضائے دوستکاٹی زباں جو شکوہ دہن سے نکل گیا

About this couplet

This is couplet 13 of 17 in “⁨پوچھا نہ جائے گا جو وطن سے نکل گیا⁩” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Amir Minai's Urdu book Kalam-e-Amir (⁨کلامِ امیر⁩).

Read it in the poem

۱۳ / ۱۷