کلامِ امیرردیف الف

پوچھا نہ جائے گا جو وطن سے نکل گیا

۱

پوچھا نہ جائے گا جو وطن سے نکل گیابیکار ہے جو دانت دہن سے نکل گیا

۲

ٹھہریں کبھی کجوں میں نہ دم بھر بھی راست روآیا کماں میں تیر تو سن سے نکل گیا

۳

خلعت پہن کے آنے کی تھی گھر میں آرزویہ حوصلہ بھی گور و کفن سے نکل گیا

۴

پہلو میں میرے دل کو نہ اے درد کر تلاشمدت ہوئی غریب وطن سے نکل گیا

۵

مرغان باغ تم کو مبارک ہو سیر گلکانٹا تھا ایک میں سو چمن سے نکل گیا

۶

کیا رنگ تیری زلف کی بو نے اڑا دیاکافور ہو کے مشک ختن سے نکل گیا

۷

پیاسا ہوں اس قدر کہ مرا دل جو گر پڑاپانی ابل کے چاہ ذقن سے نکل گیا

۸

سارا جہان نام کے پیچھے تباہ ہےانسان کیا عقیق یمن سے نکل گیا

۹

کانٹوں نے بھی نہ دامن گلچیں پکڑ لیابلبل کو ذبح کر کے چمن سے نکل گیا

۱۰

کیا شوق تھا جو یاد سگ یار نے کیاہر استخواں تڑپ کے بدن سے نکل گیا

۱۱

اے سبزہ رنگ خط بھی بنا اب تو بوسہ دےبیگانہ تھا جو سبزہ چمن سے نکل گیا

۱۲

منظور عشق کو جو ہوا اوج حسن پرقمری کا نالہ سرو چمن سے نکل گیا

۱۳

مد نظر رہی ہمیں ایسی رضائے دوستکاٹی زباں جو شکوہ دہن سے نکل گیا

۱۴

طاؤس نے دکھائے جو اپنے بدن کے داغروتا ہوا سحاب چمن سے نکل گیا

۱۵

صحرا میں جب ہوئی مجھے خوش چشموں کی تلاشکوسوں میں آہوان ختن سے نکل گیا

۱۶

خنجر کھنچا جو میان سے چمکا میان صفجوہر کھلے جو مرد وطن سے نکل گیا

۱۷

میں شعر پڑھ کے بزم سے کیا اٹھ گیا امیرؔبلبل چہک کے صحن چمن سے نکل گیا

۵ / ۴۷