جب سے باندھا ہے تصور اس رخ پر نور کا

عجز کرتے ہیں عدوئے جان سے بھی خاصان حقجھک گیا سر آگے پائے دار پر منصور کا

About this couplet

This is couplet 14 of 22 in “⁨جب سے باندھا ہے تصور اس رخ پر نور کا⁩” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Amir Minai's Urdu book Kalam-e-Amir (⁨کلامِ امیر⁩).

Read it in the poem

۱۴ / ۲۲