کلامِ امیرردیف الف

جب سے باندھا ہے تصور اس رخ پر نور کا

۱

جب سے باندھا ہے تصور اس رخ پر نور کاسارے گھر میں نور پھیلا ہے چراغ طور کا

۲

بخت واژوں سے جلے کیوں دل نہ مجھ محرور کامرہم کافور سے منہ آ گیا ناسور کا

۳

اس قدر مشتاق ہوں زاہد خدا کے نور کابت بھی بنوایا کبھی میں نے تو سنگ طور کا

۴

تجھ کو لائے گھر میں جنت کو جلایا رشک سےہم بغل تجھ سے ہوئے پہلو دبایا حور کا

۵

گور کافر کس لیے ہے تیرہ و تار اس قدرپڑ گیا سایہ مگر میری شب دیجور کا

۶

حسن یوسف اور تیرے حسن میں اتنا ہے فرقچوٹ یہ نزدیک کی ہے وار تھا وہ دور کا

۷

قصر تن بگڑا کسی کا گورکن کی بن پڑیگھر کسی کا گر پڑا گھر بن گیا مزدور کا

۸

چہرۂ جاناں سے شرما کر چھپایا خلد میںخامۂ تقدیر نے کھینچا جو نقشہ حور کا

۹

حاجت مشاطہ کیا رخسار روشن کے لیےدیکھ لو گل کاٹتا ہے کون شمع طور کا

۱۰

زلف و روئے یار سے نیرنگ قدرت ہے عیاںمہر کے پنجے میں ہے دامن شب دیجور کا

۱۱

خاکساری کر جو ہو منظور آنکھوں میں جگہخاک ہو کر سرمہ بن جاتا ہے پتھر طور کا

۱۲

غافلوں کے کان کب کھلتے ہیں سن کر شور حشرسونے والوں کو جگا سکتا نہیں غل دور کا

۱۳

پوچھ لینا سب وطن کا حال اے اہل عدمبیٹھ لینے دو ذرا آتا ہوں اٹھا دور کا

۱۴

عجز کرتے ہیں عدوئے جان سے بھی خاصان حقجھک گیا سر آگے پائے دار پر منصور کا

۱۵

موت کیا آئی تپ فرقت سے صحت ہو گئیدم نکلنے سے بدن ٹھنڈا ہوا رنجور کا

۱۶

جاتے ہیں مے خانۂ عالم سے ہم سوئے عدمکہہ دو ازخود رفتگی سے ہے ارادہ دور کا

۱۷

موذیوں کو حادثوں سے دہر کے کیا خوف ہےبارش باراں سے گھر گرتا نہیں زنبور کا

۱۸

چشم ساغر بے سبب ہر دم لہو روتی نہیںمغبچوں سے ساقیا دل پھٹ گیا انگور کا

۱۹

جاتے ہیں مے خانۂ عالم سے ہم سوئے عدمکہہ دو ازخود رفتگی سے ہے ارادہ دور کا

۲۰

کی نظر جس پر کدورت سے رہا خاموش وہہے اثر گرد نگاہ یار میں سیندور کا

۲۱

جلوۂ معشوق ہر جا ہے بصیرت ہو اگرکرمک شب تاب میں عالم ہے شمع طور کا

۲۲

مر کے یاران عدم کے پاس پہنچوں گا امیرؔچلتے چلتے جان جائے گی سفر ہے دور کا

۸ / ۴۷