جب سے باندھا ہے تصور اس رخ پر نور کا
حسن یوسف اور تیرے حسن میں اتنا ہے فرقچوٹ یہ نزدیک کی ہے وار تھا وہ دور کا
About this couplet
This is couplet 6 of 22 in “جب سے باندھا ہے تصور اس رخ پر نور کا” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Amir Minai's Urdu book Kalam-e-Amir (کلامِ امیر).
Read it in the poem۶ / ۲۲