جب سے باندھا ہے تصور اس رخ پر نور کا
چہرۂ جاناں سے شرما کر چھپایا خلد میںخامۂ تقدیر نے کھینچا جو نقشہ حور کا
About this couplet
This is couplet 8 of 22 in “جب سے باندھا ہے تصور اس رخ پر نور کا” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Amir Minai's Urdu book Kalam-e-Amir (کلامِ امیر).
Read it in the poem۸ / ۲۲