فراق یار نے بے چین مجھ کو رات بھر رکھا

تمہارے سنگ در کا ایک ٹکڑا بھی جو ہاتھ آیاعزیز ایسا کیا مر کر اسے چھاتی پہ دھر رکھا

About this couplet

This is couplet 5 of 12 in “⁨فراق یار نے بے چین مجھ کو رات بھر رکھا⁩” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Amir Minai's Urdu book Kalam-e-Amir (⁨کلامِ امیر⁩).

Read it in the poem

۵ / ۱۲