کلامِ امیرردیف الف

فراق یار نے بے چین مجھ کو رات بھر رکھا

۱

فراق یار نے بے چین مجھ کو رات بھر رکھاکبھی تکیہ ادھر رکھا کبھی تکیہ ادھر رکھا

۲

شکست دل کا باقی ہم نے غربت میں اثر رکھالکھا اہل وطن کو خط تو اک گوشہ کتر رکھا

۳

برابر آئینے کے بھی نہ سمجھے قدر وہ دل کیاسے زیر قدم رکھا اسے پیش نظر رکھا

۴

مٹائے دیدہ و دل دونوں میرے اشک خونیں نےعجب یہ طفل ابتر تھا نہ گھر رکھا نہ در رکھا

۵

تمہارے سنگ در کا ایک ٹکڑا بھی جو ہاتھ آیاعزیز ایسا کیا مر کر اسے چھاتی پہ دھر رکھا

۶

جناں میں ساتھ اپنے کیوں نہ لے جاؤں گا ناصح کوسلوک ایسا ہی میرے ساتھ ہے حضرت نے کر رکھا

۷

نہ کی کس نے سفارش میری وقت قتل قاتل سےکماں نے ہاتھ جوڑے تیغ نے قدموں پہ سر رکھا

۸

غضب برسے وہ میرے آتے ہی معلوم ہوتا ہےجگہ خالی جو پائی یار کو غیروں نے بھر رکھا

۹

بڑا احساں ہے میرے سر پہ اس کی لغزش پا کاکہ اس نے بے تحاشا ہاتھ میرے دوش پر رکھا

۱۰

زمیں میں دانۂ گندم صدف میں ہم ہوے گوہرہمارے عجز نے ہر معرکہ میں ہم کو در رکھا

۱۱

ترے ہر نقش پا کو رہ گزر میں سجدہ گہ سمجھےجہاں تو نے قدم رکھا وہاں میں نے بھی سر رکھا

۱۲

امیر اچھا شگون مے کیا ساقی کی فرقت میںجو برسا ابر رحمت جائے مے شیشوں میں بھر رکھا

۱۱ / ۴۷