امیر لاکھ ادھر سے ادھر زمانہ ہوا
نہ پوچھ ناز و نیاز اس کے میرے کب سے ہیںیہ حسن و عشق تو اب ہے اسے زمانہ ہوا
About this couplet
This is couplet 15 of 16 in “امیر لاکھ ادھر سے ادھر زمانہ ہوا” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Amir Minai's Urdu book Kalam-e-Amir (کلامِ امیر).
Read it in the poem۱۵ / ۱۶