کلامِ امیرردیف الف

امیر لاکھ ادھر سے ادھر زمانہ ہوا

۱

امیر لاکھ ادھر سے ادھر زمانہ ہواوہ بت وفا پہ نہ آیا میں بے وفا نہ ہوا

۲

سر نیاز کو تیرا ہی آستانہ ہواشراب خانہ ہوا یا قمار خانہ ہوا

۳

ہوا فروغ جو مجھ کو غم زمانہ ہواپڑا جو داغ جگر میں چراغ خانہ ہوا

۴

امید جا کے نہیں اس گلی سے آنے کیبہ رنگ عمر مرا نامہ بر روانہ ہوا

۵

ہزار شکر نہ ضائع ہوئی مری کھیتیکہ برق و سیل میں تقسیم دانہ دانہ ہوا

۶

قدم حضور کے آئے مرے نصیب کھلےجواب قصر سلیماں غریب خانہ ہوا

۷

ترے جمال نے زہرہ کو دور دکھلایاترے جلال سے مریخ کا زمانہ ہوا

۸

کوئی گیا در جاناں پہ ہم ہوئے پامالہمارا سر نہ ہوا سنگ آستانہ ہوا

۹

فروغ دل کا سبب ہو گئی بجھی جو ہوسشرار کشتہ سے روشن چراغ خانہ ہوا

۱۰

جب آئی جوش پہ میرے کریم کی رحمتگرا جو آنکھ سے آنسو در یگانہ ہوا

۱۱

حسد سے زہر تن آسماں میں پھیل گیاجو اپنی کشت میں سرسبز کوئی دانہ ہوا

۱۲

چنے مہینوں ہی تنکے غریب بلبل نےمگر نصیب نہ دو روز آشیانہ ہوا

۱۳

خیال زلف میں چھائی یہ تیرگی شب ہجرکہ خال چہرۂ زخمی چراغ خانہ ہوا

۱۴

یہ جوش گریہ ہوا میرے صید ہونے پرکہ چشم دام کے آنسو سے سبز دانہ ہوا

۱۵

نہ پوچھ ناز و نیاز اس کے میرے کب سے ہیںیہ حسن و عشق تو اب ہے اسے زمانہ ہوا

۱۶

اٹھائے صدمے پہ صدمے تو آبرو پائیامیر ٹوٹ کے دل گوہر یگانہ ہوا

۱۲ / ۴۷