کلامِ امیرردیف ے

دل کو طرز نگۂ یار جتاتے آئے

۱

دل کو طرز نگۂ یار جتاتے آئےتیر بھی آئے تو بے پر کی اڑاتے آئے

۲

بادشاہوں کا ہے دربار در پیر مغاںسیکڑوں جاتے گئے سیکڑوں آتے آئے

۳

چھپ کے بھی آئے مرے گھر تو وو دربانوں کواپنی پازیب کی جھنکار سناتے آئے

۴

روز محشر جو بلائے گئے دیوانۂ زلفبیڑیاں پہنے ہوئے شور مچاتے آئے

۵

کیا کہیں گے کوئی محشر میں جو پوچھے گا امیرؔکیوں نہ بگڑی ہوئی باتوں کو بناتے آئے

۴۶ / ۴۷