کلامِ امیرردیف ے

جب سے بلبل تو نے دو تنکے لیے

۱

جب سے بلبل تو نے دو تنکے لیےٹوٹتی ہیں بجلیاں ان کے لیے

۲

ہے جوانی خود جوانی کا سنگارسادگی گہنہ ہے اس سن کے لیے

۳

کون ویرانے میں دیکھے گا بہارپھول جنگل میں کھلے کن کے لیے

۴

ساری دنیا کے ہیں وہ میرے سوامیں نے دنیا چھوڑ دی جن کے لیے

۵

باغباں کلیاں ہوں ہلکے رنگ کیبھیجنی ہے ایک کمسن کے لیے

۶

سب حسیں ہیں زاہدوں کو ناپسنداب کوئی حور آئے گی ان کے لیے

۷

وصل کا دن اور اتنا مختصردن گنے جاتے تھے اس دن کے لیے

۸

صبح کا سونا جو ہاتھ آتا امیرؔبھیجتے تحفہ موذن کے لیے

۴۵ / ۴۷