اس کی حسرت ہے جسے دل سے مٹا بھی نہ سکوں

ڈال کے خاک میرے خون پہ قاتل نے کہاکچھ یہ مہندی نہیں میری کہ چھپا بھی نہ سکوں

About this couplet

This is couplet 2 of 6 in “⁨اس کی حسرت ہے جسے دل سے مٹا بھی نہ سکوں⁩” in the section Ghazals — Radeef Noon, from Amir Minai's Urdu book Kalam-e-Amir (⁨کلامِ امیر⁩).

Read it in the poem

۲ / ۶