کلامِ امیرردیف ن
اس کی حسرت ہے جسے دل سے مٹا بھی نہ سکوں
۱
اس کی حسرت ہے جسے دل سے مٹا بھی نہ سکوںڈھونڈنے اس کو چلا ہوں جسے پا بھی نہ سکوں
۲
ڈال کے خاک میرے خون پہ قاتل نے کہاکچھ یہ مہندی نہیں میری کہ چھپا بھی نہ سکوں
۳
ضبط کمبخت نے یاں آ کے گلا گھونٹا ہےکہ اسے حال سناؤں تو سنا بھی نہ سکوں
۴
نقش پا دیکھ تو لوں لاکھ کروں گا سجدےسر مرا عرش نہیں ہے جو جھکا بھی نہ سکوں
۵
بے وفا لکھتے ہیں وہ اپنے قلم سے مجھ کویہ وہ قسمت کا لکھا ہے جو مٹا بھی نہ سکوں
۶
اس طرح سوئے ہیں سر رکھ کے میرے زانو پراپنی سوئی ہوئی قسمت کو جگا بھی نہ سکوں
۲۱ / ۴۷