کلامِ امیرردیف ن

کچھ خار ہی نہیں مرے دامن کے یار ہیں

۱

کچھ خار ہی نہیں مرے دامن کے یار ہیںگردن میں طوق بھی تو لڑکپن کے یار ہیں

۲

سینہ ہو کشتگان محبت کا یا گلادونوں یہ تیرے خنجر آہن کے یار ہیں

۳

خاطر ہماری کرتا ہے دیر و حرم میں کونہم تو نہ شیخ کے نہ برہمن کے یار ہیں

۴

کیا پوچھتا ہے مجھ سے نشاں سیل و برق کادونوں قدیم سے مرے خرمن کے یار ہیں

۵

کیا گرم ہیں کہ کہتے ہیں خوبان لکھنؤلندن کو جائیں وہ جو فرنگن کے یار ہیں

۶

وہ دشمنی کریں تو کریں اختیار ہےہم تو عدو کے دوست ہیں دشمن کے یار ہیں

۷

کچھ اس چمن میں سبزۂ بیگانہ ہم نہیںنرگس کے دوست لالہ و سوسن کے یار ہیں

۸

کانٹے ہیں جتنے وادئ غربت کے اے جنوںسب آستیں کے جیب کے دامن کے یار ہیں

۹

گم گشتگی میں راہ بتاتا ہے ہم کو کونہے خضر جن کا نام وہ رہزن کے یار ہیں

۱۰

چلتے ہیں شوق برق تجلی میں کیا ہے خوفچیتے تمام وادیٔ ایمن کے یار ہیں

۱۱

پیری مجھے چھڑاتی ہے احباب سے امیرؔدنداں نہیں یہ میرے لڑکپن کے یار ہیں

۲۳ / ۴۷