کلامِ امیرردیف ن
ہم جو مست شراب ہوتے ہیں
۱
ہم جو مست شراب ہوتے ہیںذرے سے آفتاب ہوتے ہیں
۲
ہے خرابات صحبت واعظلوگ ناحق خراب ہوتے ہیں
۳
کیا کہیں کیسے روز و شب ہم سےعمل ناثواب ہوتے ہیں
۴
بادشہ ہیں گدا، گدا سلطانکچھ نئے انقلاب ہوتے ہیں
۵
ہم جو کرتے ہیں مے کدے میں دعااہل مسجد کو خواب ہوتے ہیں
۶
وہی رہ جاتے ہیں زبانوں پرشعر جو انتخاب ہوتے ہیں
۷
کہتے ہیں مست رند سودائیخوب ہم کو خطاب ہوتے ہیں
۸
آنسوؤں سے امیرؔ ہیں رسواایسے لڑکے عذاب ہوتے ہیں
۲۴ / ۴۷