گلے میں ہاتھ تھے شب اس پری سے راہیں تھیں
مشاعرے سے حسیں کیوں نہ چھین لے جاتےرباعیاں مری چو گو شبہ کلاہیں تھیں
About this couplet
This is couplet 12 of 13 in “گلے میں ہاتھ تھے شب اس پری سے راہیں تھیں” in the section Ghazals — Radeef Noon, from Amir Minai's Urdu book Kalam-e-Amir (کلامِ امیر).
Read it in the poem۱۲ / ۱۳